جمعہ 2 اکتوبر 2026 - 20:08
نماز جمعہ؛ امت کی اجتماعی بیداری اور نظامِ دین کے تسلسل کا اہم ذریعہ ہے, علامہ سید جواد نقوی

خطیبِ جمعہ مسجد بیت العتیق، لاہور:

نماز جمعہ؛ امت کی اجتماعی بیداری اور نظامِ دین کے تسلسل کا اہم ذریعہ ہے, علامہ سید جواد نقوی

خطبۂ جمعہ کے ذریعہ مسلمانوں کو دینی، اجتماعی اور عصری مسائل سے آگاہ کرنا اور انہیں ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرنا جمعہ کے اہم مقاصد میں شامل ہے

حوزہ / علامہ سید جواد نقوی نے نماز جمعہ کے خطبے میں کہا: انبیاء علیہم السلام نے اللہ تعالیٰ کی جانب سے دین کی ہدایت انسانوں تک پہنچانے اور اس کی تکمیل کے مراحل انجام دیے جبکہ ائمہ علیہم السلام نے دین کے نفاذ اور اس کی رہنمائی کی ذمہ داری سنبھالی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کے مطابق، 02 اکتوبر 2026ء کو مسجد بیت العتیق، جامعۃ العروۃ الوثقی لاہور میں سربراہ تحریکِ بیداری امت مصطفیٰ پاکستان اور جامعہ عروۃ الوثقی لاہور کے مہتمم علامہ سید جواد نقوی نے نماز جمعہ کے خطبوں میں تقوائے الٰہی، نظامِ دین، تسلسلِ امامت، نمازِ جمعہ کے اجتماعی کردار اور موجودہ عالمی و علاقائی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔

انہوں نے خطبۂ جمعہ کے آغاز میں تقوائے الٰہی کی تاکید کرتے ہوئے کہا: اللہ تعالیٰ نے انسان کو حیات عطا کرنے کے بعد اسے مقصدِ حیات تک پہنچانے کے لیے ہدایت کا نظام عطا فرمایا، جبکہ انسانی زندگی کو دنیاوی و اخروی خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے تقویٰ کو تدبیرِ حفاظت قرار دیا ہے۔

خطیب جمعہ نے مزید کہا: انسان جس طرح ہدایت کا محتاج ہے، اسی طرح حفاظت کا بھی محتاج ہے، کیونکہ اسے دنیاوی اور اخروی اعتبار سے متعدد خطرات لاحق ہیں۔ تقویٰ انسان کو ان خطرات سے محفوظ رکھنے اور زندگی کو الٰہی اصولوں کے مطابق گزارنے کا ذریعہ ہے۔

نماز جمعہ؛ امت کی اجتماعی بیداری اور نظامِ دین کے تسلسل کا اہم ذریعہ ہے

نظامِ دین کو اس کی اصل ترتیب کے ساتھ سمجھنے کی ضرورت

علامہ سید جواد نقوی نے خطبۂ جمعہ میں اس امر پر زور دیا گیا کہ دین کو سمجھنے میں اس کی بنیادی ترتیب اور اجتماعی پہلو کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ قرآن و تعلیماتِ انبیاء علیہم السلام کی روشنی میں انسانی زندگی کو اجتماعی نظم و نظام، اس نظام کے لیے الٰہی ہدایت اور پھر اس نظام کی حفاظت کے لیے تقویٰ کے تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔

خطیبِ جمعہ نے کہا: دین کو صرف عبادات، معنویت اور بعض انفرادی رسومات تک محدود کر دینا اس کے جامع تصور کو محدود کرنے کے مترادف ہے، جبکہ اسلام انسانی زندگی کے اجتماعی معاملات کے لیے بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

سربراہ تحریکِ بیداری امت مصطفیٰ پاکستان نے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے معروف کلام «لُبِسَ الْإِسْلَامُ لُبْسَ الْفَرْوِ مَقْلُوبًا» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: دین کی اصل ترتیب میں تبدیلی اور اس کے بعض بنیادی پہلوؤں کو نظرانداز کرنے کے نتیجے میں دین کے جامع نظام کو سمجھنے میں مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔

خطبے میں سورۂ مؤمنون کی آیت «وَإِنَّ هَٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ» کا حوالہ دیتے ہوئے امتِ واحدہ کے تصور اور اجتماعی نظام کے تحفظ کے لیے تقوے کی اہمیت بیان کی گئی۔

نظامِ دین کے تسلسل اور امامت کی ضرورت پر زور

جامعہ عروۃ الوثقی لاہور کے مہتمم نے خطبۂ جمعہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے منسوب الٰہی نظام کے تسلسل کا ذکر کرتے ہوئے کہا: دینی نظام کسی مخصوص دور یا نسل تک محدود نہیں بلکہ تمام انسانیت کے لیے ہے۔

انہوں نے قرآن کریم کی آیت «وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ» اور «إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: اسلام اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ دین ہے اور اس کے اصول کسی خاص زمانے یا خطے تک محدود نہیں۔

علامہ سید جواد نقوی نے خطبے میں تسلسلِ نبوت اور امامت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: انبیاء علیہم السلام نے اللہ تعالیٰ کی جانب سے دین کی ہدایت انسانوں تک پہنچانے اور اس کی تکمیل کے مراحل انجام دیے، جبکہ ائمہ علیہم السلام نے دین کے نفاذ اور اس کی رہنمائی کی ذمہ داری سنبھالی۔

نماز جمعہ؛ امت کی اجتماعی بیداری اور نظامِ دین کے تسلسل کا اہم ذریعہ ہے

نمازِ جمعہ صرف دو رکعت نماز کا نام نہیں

خطیب جمعہ نے نمازِ جمعہ کے حقیقی مقصد اور اس کے اجتماعی کردار پر گفتگو کرتے ہوئے سورۂ جمعہ کی آیت «إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ» کا حوالہ دیا اور کہا: جمعہ محض دو رکعت نماز کا نام نہیں بلکہ مسلمانوں کے اجتماعی اجتماع اور بیداری کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا: خطبۂ جمعہ کے ذریعے مسلمانوں کو دینی، اجتماعی اور عصری مسائل سے آگاہ کرنا اور انہیں ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرنا جمعہ کے اہم مقاصد میں شامل ہے۔ اس سلسلے میں شہید مرتضیٰ مطہریؒ کی نمازِ جمعہ کے حوالے سے جدوجہد کا بھی ذکر کیا گیا اور کہا: اسلامی معاشرے میں نمازِ جمعہ کو اس کے حقیقی اجتماعی کردار کے ساتھ قائم کرنا ضروری ہے۔

موجودہ عالمی حالات اور ’’فالس فلیگ‘‘ کارروائیوں کے بارے میں انتباہ

جامعہ عروۃ الوثقی لاہور کے مہتمم نے خطبۂ جمعہ کے دوسرے حصے میں موجودہ عالمی اور علاقائی حالات بالخصوص ایران، اسرائیل، امریکہ، یمن، حرمین شریفین اور پاکستان سے متعلق صورتحال پر گفتگو کی۔ اس موقع پر ’’فالس فلیگ آپریشن‘‘ کی اصطلاح کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: اس سے مراد ایسی کارروائی ہے جس میں کسی واقعے یا حملے کی ذمہ داری کسی دوسرے فریق پر عائد کرکے اس واقعے کو فوجی یا سیاسی کارروائی کے جواز کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

انہوں نے خطبے میں تاریخ کے مختلف واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: مختلف ادوار میں بعض ممالک پر ایسے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں اور ان واقعات کو جنگ یا فوجی کارروائی کے لیے جواز کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس ضمن میں پہلی اور دوسری عالمی جنگ، پولینڈ، فن لینڈ، کیوبا اور ایران سے متعلق بعض تاریخی واقعات کا ذکر کیا گیا، جبکہ ’’آپریشن نارتھ ووڈز‘‘ سمیت امریکی دستاویزات میں سامنے آنے والی بعض تجاویز کا بھی حوالہ دیا گیا۔

نماز جمعہ؛ امت کی اجتماعی بیداری اور نظامِ دین کے تسلسل کا اہم ذریعہ ہے

پاکستان کو علاقائی جنگوں میں دھکیلنے کی کوششوں سے خبردار رہنے کی تلقین

علامہ سید جواد نقوی نے پاکستان کی موجودہ صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا: پاکستانی عوام کو عالمی اور علاقائی تنازعات کے تناظر میں پھیلائی جانے والی اطلاعات اور دعووں کا جائزہ لیتے ہوئے محتاط رہنا چاہیے۔

انہوں نے حرمین شریفین کے حوالے سے سامنے آنے والی خبروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا: کسی بھی واقعے کو فوری طور پر کسی مخصوص فریق سے منسوب کرنے کے بجائے اس کے پس منظر، شواہد اور ممکنہ مقاصد کو سمجھنا ضروری ہے۔

خطیب جمعہ نے کہا: پاکستان کے عوام حرمین شریفین کے تحفظ کے حوالے سے حساس ہیں، اس لیے کسی بھی ایسے واقعے کے ذریعے عوامی جذبات کو متاثر کرکے پاکستان کو کسی نئی جنگ یا علاقائی تنازع کا حصہ بنانے کی کوششوں سے ہوشیار رہنا چاہیے۔

انہوں نے کہا: پاکستان کی قیادت کو موجودہ حالات میں جنگوں کا حصہ بننے کے بجائے امن، ثالثی اور تنازعات کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔

نماز جمعہ؛ امت کی اجتماعی بیداری اور نظامِ دین کے تسلسل کا اہم ذریعہ ہے

ایران اور خطے کی صورتحال پر گفتگو

سربراہ تحریکِ بیداری امت مصطفیٰ پاکستان نے نماز جمعہ کے خطبے میں ایران کے خلاف جاری محاذ آرائی اور خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال کا بھی ذکر کیا اور کہا: ایران کے بارے میں بعض حلقوں کی جانب سے کیے جانے والے اندازوں کے برعکس ایرانی عوام اور قیادت نے مزاحمت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس موقع پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ایران سے متعلق حالیہ بیان کا حوالہ بھی دیا۔

انہوں نے خطبے میں یمن اور حوثی تحریک کی موجودہ صورتحال، باب المندب، تعز اور عدن سمیت بعض علاقوں میں جاری پیش رفت اور سعودی عرب کی جانب سے کیے جانے والے فضائی حملوں کا بھی ذکر کیا گیا۔

خطیب جمعہ نے کہا: خطے میں جاری جنگوں کے نتیجے میں مسلمانوں کے درمیان مزید انتشار پیدا کرنے کے بجائے جنگوں کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے اقدامات کیے جانے چاہئیں۔

عوام کو بیداری، شعور اور حالات کے تجزیے کی تلقین

علامہ سید جواد نقوی نے خطبۂ جمعہ کے اختتام پر پاکستانی عوام کو عالمی حالات اور ذرائع ابلاغ میں نشر ہونے والی خبروں کے حوالے سے بیداری اور شعور اختیار کرنے کی تلقین کی اور کہا: عوام کو کسی بھی خبر یا دعوے کو بلا تحقیق قبول کرنے کے بجائے اس کے پس منظر اور شواہد کا جائزہ لینا چاہیے، تاکہ انہیں کسی جنگی منصوبے یا سیاسی و عسکری مہم کا حصہ نہ بنایا جا سکے۔ امید ہے پاکستان خطے میں جنگوں کو مزید پھیلانے کے بجائے امن کے قیام، تنازعات کے خاتمے اور فریقین کے درمیان ثالثی کے لیے مؤثر کردار ادا کرے گا۔

نماز جمعہ؛ امت کی اجتماعی بیداری اور نظامِ دین کے تسلسل کا اہم ذریعہ ہے

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha